موجہ گل کو ہم آواز نہیں کر سکتے
دن ترے نام سے آغاز نہیں کرسکتے
اس چمن زار میں ہم کو سبزہ بیگانہ سہی
آپ کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے
عشق کرنا ہے تو پھر سارا اثاثہ لائیں
اس میں تو کچھ بھی پس انداز نہیں کرسکتے
دکھ پہنچتا ہے بہت دل کو رویے سے ترے
اور مداوا ترے الفاظ نہیں کر سکتے
عشق میں یہ بھی کھلا ہے کہ اٹھانا غم کا
کار دشوار ہے اور بعض نہیں کر سکتے
پروین شاکر
موجہ گل کو ہم آواز نہیں کر سکتے
Reviewed by Zintovlogs
on
February 11, 2020
Rating:
No comments: